پاکستان پریس فاؤنڈیشن مقتول صحافی ارشد شریف کو 2023 کا پریس فریڈم ایوارڈ دے رہی ہے‎‎ -
Pakistan Press Foundation

پاکستان پریس فاؤنڈیشن مقتول صحافی ارشد شریف کو 2023 کا پریس فریڈم ایوارڈ دے رہی ہے‎‎

Pakistan Press Foundation

پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف) نے 2023 کا پریس فریڈم ایوارڈ مقتول صحافی ارشد شریف کو دینے اعلان کیا ہے ۔

پاکستان میں بطور صحافی ارشد شریف کے تجربات مشکلات سے بھرپور تھے جن میں ہراسانی اور قانونی مقدمات بھی شامل تھے۔ ان کا ملک چھوڑنے کا حتمی فیصلہ اور اس کے نتیجے میں کینیا میں قتل پاکستان کے صحافیوں کو درپیش خطرات اور چیلنجوں کی واضح یاد دہانی ہے۔ شریف کی بے وقت موت  کو میڈیا کے پیشہ ور افراد اور اداروں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ریاستی حکام کو بھی صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران درپیش سنگین خطرات کے لئے ایک ویک اپ کال کے طور پر سمجھنا چاہئے۔

آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر، پی پی ایف آزادی اظہار کے لئے شریف کی خدمات کو تسلیم کرتا ہے اور ان کا احترام کرتا ہے۔تاہم، ان کا پاکستان چھوڑنا، نتیجتاًکینیا میں ان کا آنا، اور 23 اکتوبر 2022 کو ان کے قتل کے حالات کے بارے میں تھوڑی سے وضاحت باقی ہے۔ مرحوم صحافی کی زندگی کا احترام کرتے ہوئے، ہم حکام سے ان کے قتل کی معتبر تحقیقات کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی اپیل کرتے ہیں کہ ان لوگوں پر انصاف لاگوکیا جائے جنہوں نے شریف کو پاکستان چھوڑنے پر مجبور کیا۔

ابتدائی طور پر، ان کی موت کی مختلف توضیحات سامنے آئیں، کچھ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ ایک حادثہ تھا اور کینیا کے میڈیا نے دعویٰ کیا کہ یہ ایک “غلط شناخت”  کا معاملہ تھا۔ تاہم، دسمبر میں، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اور انٹیلی جنس بیورو کے اہلکاروں پر مشتمل ایک فیکٹ فائنڈنگ ٹیم (ایف ایف ٹی) نے اس بات کا تعین کیا کہ شریف کی موت “منصوبہ بند ٹارگٹڈ قتل” کا نتیجہ تھی۔

ایف ایف ٹی کی رپورٹ سے پتا چلتاہے کہ کینیا کی پولیس کی جانب سے موت کو غلط شناخت کا معاملہ قرار دینے کی توضیح “تضادات سے بھرپور” تھی اور  پوسٹ مارٹم سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحافی کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔

اپریل 2022 میں یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ شریف کو ایف آئی اے کی جانب سے ہراسانی کا سامنا ہے۔ جب کہ ایف آئی اے نے گرفتاری یا ہراسگی کی ذمہ داری سے انکار کیا تھا، اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے ایجنسی کو شریف اور دیگر صحافیوں کو ہراساں کرنے سے روکنے کا حکم دیا تھا۔ ملک سے فرار ہونے کے باوجود شریف محفوظ نہیں رہے۔

جیسےکہ شریف کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں، ہم حکام سے دوبارہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان عوامل کا پتہ لگائیں جن کی وجہ سے وہ  پاکستان چھوڑنے اور  نتیجتاً کینیا آنے کا باعث بنے۔ شریف کی ہلاکت، پاکستان میں صحافیوں کے لئے تحفظ کی کمی اور انہیں اپنے کام کی وجہ سے درپیش خطرات کی تشویشناک یاد دہانی ہے۔

پاکستان میں صحافیوں کے قتل میں استثنیٰ کی بلند شرح ایک تلخ حقیقت ہے جس کے لیے تمام ریاستی اداروں کی جانب سے پرعزم کوششوں کی ضرورت ہے۔ شریف کے قتل اور ان کے پاکستان چھوڑنے کی وجوہات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ شریف کے قتل کے ازخود نوٹس پر سپریم کورٹ آف پاکستان میں کارروائی جاری ہے اور اسے ہوشمندی اور سنجیدگی کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔

شریف کا کیریئر

ممتاز  پاکستانی صحافی شریف ایک شاندار کیریئر کے حامل تھے جو افسوسناک طور پر ان کی بے وقت موت کے ساتھ اختتام  پزیرہوا۔ انہوں نے ملک کے کئی بڑے نیٹ ورکس کے ساتھ کام کیا تھا اور انہیں 2019 میں صدارتی پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

اگست میں پاکستان چھوڑنے سے قبل، شریف نے اے آر وائی نیوز پر پاور پلے شو  کی میزبانی کی، جہاں وہ 2014 سے کام کر رہے تھے۔ تاہم، ان پر اور دیگر صحافیوں کے خلاف درج بغاوت کے الزامات نے ان کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا۔ اس کے بعد، اے آر وائی نیوز نے کمپنی کے سوشل میڈیا ضابطہ اخلاق کی تعمیل کرنے میں ان کی ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے شریف سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اے آر وائی نیوز میں شامل ہونے سے پہلے، شریف نے دنیا نیوز پر ‘کیوں  کی میزبانی کی اور ڈان نیوز ٹی وی کے اسلام آباد بیورو چیف کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ دی نیوز اور آج نیوز میں بھی کام کر چکے تھے۔

اے آر وائی نیوز سے علیحدگی کے بعد، شریف بول نیوز کے ساتھ اپنا صحافتی کیریئر جاری رکھنے کے لیے تیار تھے۔ تاہم ان کی ناسازگار موت نے ان کے پروگرام کو نشر ہونے سے روک دیا۔


Facebook
Twitter
Instagram