پی پی ایف سچ بولنے والی نوجوان آواز ولی خان بابر کو یاد کررہا ہے -
Pakistan Press Foundation

پی پی ایف سچ بولنے والی نوجوان آواز ولی خان بابر کو یاد کررہا ہے

Pakistan Press Foundation

جیو نیوز کے رپورٹر، 29 سالہ صحافی ولی خان بابر کو 13 جنوری 2011 کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ بابر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرکے جیو نیوز کے دفتر سے گھر واپس آ رہے تھے کہ رات 9 بجکر 21 منٹ پر موٹر سائیکل پر سوار دو حملہ آوروں نے ان کی کار کو روکا اور ڈرائیور کی کھڑکی کی طرف سے انہیں پانچ گولیاں ماریں۔ جن میں سے دو ان کے ماتھے میں، ایک جبڑے میں اور دو ان کی گردن میں لگیں۔

انہوں نے اپنے سوگواران میں ایک بیوہ ماں، تین بہنیں اور چار بھائی چھوڑے ہیں۔

ولی بابر کے بھائی مرتضیٰ خان نے پی پی ایف کو بتایا کہ میرے بھائی کو ان کے صحافتی کام کے لئے قتل کیا گیا تھا لیکن مجھے خوشی ہے کہ کم از کم اس کے قاتلوں کو گرفتار کیا گیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے 10 سال قید کے بعد چار قاتلوں کو رہا کر دیا تھا جبکہ اہم دو قاتل فیصل عرف موٹا اور کامران عرف زیشان شانی اب بھی جیل میں ہیں۔

 پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے صدر شہزادہ ذوالفقار نے پی پی ایف کو بتایا کہ ولی کو سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے خلاف رپورٹنگ کرنے پر قتل کیا گیا۔وہ سچائی پر مبنی رپورٹنگ کررہے تھے، اگر کسی فریق کو اس کے رپورٹنگ کے طریقے سے کوئی مسئلہ تھا تو انہیں ولی کے ادارے سے بات چیت کرنی چاہیے تھی یا قانونی طریقہ استعمال کرنا چاہیے تھا۔

ذوالفقار نے کہا کہ جمہوریت کا بنیادی عنصر احتساب ہے، کوئی بھی ملک پریس کی آزادی کے بغیر حقیقی جمہوری ملک نہیں ہوسکتا۔ حکومت اور تمام اداروں کو مثبت انداز میں کی گئی تنقید قبول کرنی چاہیے۔

یکم مارچ 2014 کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے قتل کے چھ ملزمان کو مجرم قرار دیا تھا جن میں فیصل محمود عرف فیصل موٹا اور کامران عرف ذیشان شامل تھے جنہیں غیر حاضری میں مجرم قرار دیکر سزائے موت سنائی گئی تھی۔ وہ ایک سیاسی جماعت متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) کے کارکن بھی تھے۔

دیگر مجرمان میں فیصل محمود عرف نفسیاتی، نوید عرف پولکا، محمد علی رضوی اور شاہ رخ عرف مانی شامل تھے جنہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ شکیل کے نام سے شناخت ہونے والے ایک ملزم کو عدم شواہد کی بنا پر رہا کر دیا گیا تھا۔

یہ فیصلہ ایک مثال ہے جہاں ایک پاکستانی صحافی کے قاتلوں کو سزا سنائی گئی۔ تاہم قتل کے مقدمے کے دوران پولیس اہلکاروں اور استغاثہ سمیت 9 گواہان کو قتل کیا گیا تھا اور سیکورٹی کے پیشِ نظر مقدمے کو کئی بار منتقل کرنا پڑا تھا۔

فیصل عرف موٹا کو 11 مارچ 2015 کو متحدہ قومی مومنٹ کے ہیڈ کوارٹر، نائن زیرو سے گرفتار کیا گیا تھا جبکہ کامران عرف زیشان شانی کو وفاقی انٹیلی جنس ایجنسی کے اسپیشل انویسٹیگیشن یونٹ نے 15 جون 2020 کو گرفتار کیا تھا۔

کراچی پولیس کے چیف غلام نبی میمن نے کامران عرف زیشانی شانی کی گرفتاری کے بعد انکشاف کیا کہ ذیشان نے تفتیش کاروں کو بتایا تھا کہ انہوں نے ولی خان بابر کو اس لئے قتل کیا کیونکہ وہ اے این پی کے لیے کام کرتا تھا اور ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے خلاف خبریں دے رہا تھا۔

 پولیس چیف کا کہنا تھا کہ گولی چلانے والے نے 2008 میں ایم کیو ایم (لندن) میں شمولیت اختیار کی اور وہ فیصل عرف

موٹا کی ٹارگٹ کلنگ ٹیم کا حصہ بن گیا۔