صحافیوں کو قتل، زخمی اور تشدد کا نشانہ بنا نےوالوں کو پاکستان میں کبھی سزا نہیں دی گئی | Pakistan Press Foundation (PPF)

Paksitan Press Foundtion

صحافیوں کو قتل، زخمی اور تشدد کا نشانہ بنا نےوالوں کو پاکستان میں کبھی سزا نہیں دی گئی

Pakistan Press Foundation

پاکستان میں ذرائع ابلاغ سے وابستہ کارکنان کی حفاظت کے حوالے سے جاری ہونے والے ایک رپورٹ پاکستان میں صحافیوں کو درپیش عدم تحفظ کی بھیانک تصویر پیش کرتی ہے اور حکومت اور ذرائع ابلاغ سے موجودہ صورت حال کو تبدیل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششوں کا مطالبہ کرتی ہے کہ جہاں صحافیوں کو قتل، زخمی، زدوکوب کرنے یا دھمکانے والے کبھی سزا نہیں پاتے۔

ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کی حفاظت پر رپورٹ پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پیایف) نے ‘سزا سے بریت کے عالمی دن’ پر جاری کی ہے، جو بتاتی ہے کہ 2001ء سے اب تک ذرائع ابلاغ سے وابستہ 47 کارکنان قتل ہوئے جبکہ 164 زخمی، 88 زدوکوب، 21 اغواء اور 40 گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ مزید برآں، ذرائع ابلاغ سے وابستہ 24 افراد خطرناک ذمہ داری انجام دیتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ذرائع ابلاغ کے خلاف تشدد کے 384 معاملات میں سے صرف دو ایسے ہیں جن میں کسی کو مجرم ٹھیرایا گیا۔

پاکستان میں صحافی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں، عسکریت پسندوں، قبائلی سرداروں اور جاگیرداروں اور ساتھ ساتھ جمہوریت و قانون کی حکمرانی کے دعویدار مذہبی گروہوں اور سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں بھی قتل ہوئے، حبس بے جا میں رکھےگئے، زدوکوب کیے گئے اور مارے پیٹے گئے۔ یہ امر صورت حال کی سنگینی میں مزید اضافہ کرتا ہے کہ صحافیوں اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کے خلاف تشدد کے مرتکب یہ افراد پاکستان میں مقدمات سے مکمل چھوٹ حاصل ہے۔

ہنگاموں اور شورش کی وجہ سے بلوچستان، خیبر پختونخوا اور فاٹا میں قتل کے واقعات زیادہ ہیں۔ 2001ء سے 21 صحافی اور ابلاغی کارکن بلوچستان میں،19 خیبر پختونخوا میں، 9 فاٹا اور 15 سندھ میں، 4 پنجاب اور 3 اسلام آباد میں مارے گئے۔

دھمکیوں اور تشدد نے کئی صحافیوں کو خطرات کے حامل علاقوں سے ہجرت کرنے اور پیشہ چھوڑنے پر مجبور کیا یا پھر متنازع علاقوں میں رہنے والے صحافیوں نے خود پر ہی سنسرشپ لاگو کردی۔ نتیجے میں ان علاقوں سے آنے والی خبریں آزاد صحافیوں کے مشاہدوں پر مبنی نہیں بلکہ محض خبری اعلامیوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شائع یا نشر ہونے والی خبروں کی کوئی ساکھ نہیں ہوتی اور وہ بامقصد انداز میں عوام کو اطلاعات فراہم نہیں کرپاتیں۔

عدالت میں مجرم قرار دیے جانے کے دونوں واقعات سندھ میں پیش آئے جہاں وال اسٹریٹ جرنل کے ڈینیل پرل اور جیو ٹیلی وژن کے ولی بابر کے معاملات حل ہوئے۔ دونوں معاملات میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے سنجیدگی سے پیروی کی کیونکہ انہیں مارے گئے صحافیوں کے ابلاغی اداروں کی جانب سے سخت دباؤ کا سامنا تھا۔ اس لیے رپورٹ نہ صرف ایسے واقعات کے فوجداری مقدمات درج کرنے کی تجویز دیتی ہے بلکہ ان کی مکمل تحقیق اور ذرائع ابلاغ کے خلاف تشدد کے مرتکب افراد کو مجرم قرار دینے کی تجویز بھی دیتی ہے۔ رپورٹ ذرائع ابلاغ کے اداروں سے بھی مطالبہ کرتی ہے کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھائیں اور اداروں اور کارکنوں پر حملے کے مقدمات کی طویل عرصے تک پیروی کو یقینی بنائیں۔

قتل کے علاوہ ذرائع ابلاغ کے خلاف تشدد کے سب سے زیادہ واقعات صوبہ سندھ میں پیش آئے۔ 2001ء میں اب تک کل 164 صحافی اور ابلاغی کارکن زخمی ہوئے یا زدوکوب کیے گئے، جن میں سے 91 سندھ میں ہوئے۔ حیران کن طور پر 70 حملوں کے ساتھ ان زمروں میں دوسرا مقام اسلام آباد کا ہے، جس کی وجہ 2014ء میں دھرنے کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں کی جانب سے ذرائع ابلاغ کے کارکنوں کے خلاف بڑی تعداد میں ہونے والے حملے تھے۔ ذرائع ابلاغ سے وابستہ 48 افراد پنجاب میں، 23 خیبر پخونخوا میں اور 14 بلوچستان میں زخمی یا زدوکوبہوئے۔

ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کے خلاف تشدد کے مرتکب افراد کو پکڑنے میں ہچکچاہٹ انتہائی بڑے واقعات میں بھی دکھائی دی جیسا کہ 2014ء میں حامد میر پر قاتلانہ حملے، 2011ء میں سلیم شہزاد اور 2006ء میں حیات اللہ خان کے قتل کے معاملات میں۔ ان تمام واقعات کے بعد اعلیٰ سطحی کمیشن تشکیل دیےگئے لیکن نتیجہ صفر رہا۔

حامد میر کو اپریل 2014ء میں کراچی میں حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں انہیں چھ گولیاں لگیں۔ حکومت نے حملے کے بعد قومی و بین الاقوامی غیظ و غضب کے نتیجے میں عدالتی کمیشن قائم کیا۔ کمیشن کو 21 دنوں میں اپنی رپورٹ پیش کرنا تھی۔ لیکن اٹھارہ ماہ گزر چکے ہیں اور کمیشن نے اب بھی اپنی رپورٹ جمع نہیں کرائی۔ دریں اثناء، حامد میر اور دیگر صحافیوں کو بدستور دھمکیاں ملتی رہیں اور انہیں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کا سامنا رہا۔ رپورٹ کمیشن کی رپورٹ کی فوری تکمیل کا مطالبہ کرتی ہے جو ذمہ داری پوری کرے اور منظرعام پر لائی جائے۔

جو واقعات بڑے پیمانے پر توجہ حاصل نہیں کر پائے انہیں تو مقامی سطح پر ہی دبا دیا گیا۔ اس کی ایک مثال 31 دسمبر 2013ء کی شب باڈھ، لاڑکانہ میں قتل ہونے والے ‘اب تک’ ٹیلی وژن چینل کے رپورٹر شان ڈہر کی ہے۔ انہیں پشت پر گولیاں ماری گئی تھیں، جس کے بعد ہسپتال پہنچایا گیا لیکن بروقت علاج فراہم نہیں کیا گیا یہاں تک کہ وہ یکم جنوری 2014ء کو علی الصبحزخموں کی تاب نہ لاتے ہوئےچل بسے۔ مقامی پولیس نے تحقیقات میں ان کی موت کو سالِ نو پر ہونے والی فائرنگ کا حادثاتی نتیجہ قرار دیا۔ البتہ اہلخانہسمجھتے ہیں کہانہیںمقامیہسپتالمیںجعلیادویاتکےاستعمالپربنائیگئیخبروںکیوجہسےہدفبنایاگیا۔ معاملے کی دوبارہ تفتیش کے بارہاوعدوںکےباوجود،جنمیںوزیراطلاعاتپرویزرشیدکےوعدےبھیشاملہیں،کوئیقدمنہیںاٹھایاگیا،نہصوبائیاورنہہیوفاقیحکومتکیجانبسے۔

رپورٹ زور دیتی ہے کہ آزاد ذرائع ابلاغ پاکستان میں جمہوریت، شفافیت اور احتساب کے فروغ کے لیے ضروری ہیں جو زبردست اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ پر حملے کرنے والوں کو حاصل کھلی چھوٹ ملک میں آزاد صحافت کی راہ میں بڑی رکاوٹیں پیدا کررہی ہے۔

مکمل رپورٹ انگریزی میں http://www.pakistanpressfoundation.org/wp-content/uploads/2015/10/Report-on-Safety-of-Media-Workers.pdf پر دستیاب ہے۔

اردو میں http://www.pakistanpressfoundation.org/wp-content/uploads/2015/10/Report-on-Safety-for-Media-Workers-Urdu-2.pdf پر موجود ہے۔